بدھ 21 اکتوبر 2026 - 20:26
انقلاب اسلامی کی حقیقی طاقت دلوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست اور مرکز جذب و رہنمائی طلاب کے مسئول حجت الاسلام والمسلمین محمد رضا برتہ نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے پیغامات کو سمجھنے اور ان کی تشریح کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: جمہوریہ اسلامی ایران کی طاقت کو محض مادی، فوجی، اقتصادی اور جغرافیائی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا بلکہ الٰہی حساب و کتاب کے مطابق عوام کا ایمان، قوم کا عزم، نصرتِ الٰہی اور انقلاب اسلامی کی دلوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی صلاحیت ایران کو ایسی قوت عطا کرتی ہے جسے دشمنوں کا مادی حساب و کتاب سمجھنے سے قاصر ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین محمدرضا برتہ نے ایران کے شہر قم المقدسہ میں حوزاتِ علمیہ کے مرکزِ مدیریت کے موکب "بسیج شہدائے روحانی" کے 223ویں شبانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رہبر معظم انقلاب کے فکری نظام کو سمجھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا: ہم نے ائمہ معصومین علیہم السلام کا زمانہ درک نہیں کیا اور نہ ہی یہ دیکھا کہ قرآن کریم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک پر کیسے نازل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معارفِ الٰہی کو کس طرح بیان فرمایا۔ تاہم ہمیں یہ سعادت حاصل ہے کہ ہم ان کے ایک فرزند یعنی مقام معظم رہبری کے ہم عصر ہوئے ہیں اور اس راستے میں ان کے شریک ہیں۔

انہوں نے رہبر معظم انقلاب کے پیغامات کو سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی اجتماعی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے مزید کہا: میرے عزیز بہنو اور بھائیو! ہم اور آپ سب رہبر معظم انقلاب کے پیغامات وصول کرتے ہیں اور یہ پیغامات مختلف مسائل اور حالات کے مطابق بتدریج ہم تک پہنچتے ہیں۔ اب یہ ہماری اور آپ کی اہم ذمہ داری ہے کہ ان پیغامات کو صحیح طور پر حاصل کریں، سمجھیں اور دوسروں کے سامنے ان کو احسن انداز سے پیش کریں۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست نے مزید کہا: اگر ہم سے پوچھا جائے کہ رہبر معظم انقلاب کا فکری و معرفتی نظام کیا ہے، ان کا مطلوبہ ہدف کیا ہے، وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں اور آنے والی نسل کے لیے کون سا مستقبل پیش نظر رکھتے ہیں، تو ہم ان سوالات کا جواب اسی وقت دے سکتے ہیں جب ہم نے ان کے پیغامات کو حاصل کیا ہو، سنا ہو، سمجھا ہو اور ان کی وضاحت کی ہو۔

انہوں نے مزید کہا: یقیناً بعض پیغامات کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا اور ان میں ایسے باریک و عمیق نکات اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں جن کے لیے زیادہ غور و فکر اور دقتِ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

الٰہی حساب و کتاب کے مطابق ایران کے پہلی طاقت ہونے کا مفہوم

حجت الاسلام والمسلمین برتہ نے رہبر معظم انقلاب کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: مقام معظم ولایت کے حالیہ پیغام میں ایک ایسا جملہ سامنے آیا جس نے دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ "بعض لوگ ہمیں چوتھی بڑی عالمی طاقت سمجھتے ہیں لیکن الٰہی حساب و کتاب کے مطابق ہم پہلی طاقت ہیں"۔

انہوں نے دشمن کے ذرائع ابلاغ اور تجزیاتی حلقوں میں اس بیان کے ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج میں جائزہ لے رہا تھا کہ ہمارے دشمن اس موضوع پر کیا کچھ شائع کر رہے ہیں اور اس بارے میں اپنے تجزیات کس طرح پیش کر رہے ہیں۔ مجھے بے شمار مضامین، پروگراموں، مکالموں اور تجزیوں کا سامنا ہوا، جن میں یہ سمجھانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ رہبر معظم انقلاب کس بنیاد پر پہلی طاقت قرار دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں بھی خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ پہلی طاقت ہونے کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہماری معیشت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے؟ کیا ہماری آبادی، جغرافیائی وسعت اور فوجی قوت کے پیمانے ہمیں پہلے مقام پر رکھتے ہیں؟ جب کہا جاتا ہے کہ ہم پہلی طاقت ہیں تو درحقیقت اس سے کیا مراد ہے؟ ممکن ہے ہر شخص کے ذہن میں اس کا کوئی جواب آئے لیکن رہبر معظم انقلاب کا بیان نہایت دقیق ہے اور اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست نے انقلاب اسلامی کے فکری نظام میں طاقت کے تصور اور عالمی استعماری طاقتوں کی اصطلاحات کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا: بڑی عالمی طاقتیں عموماً اپنے بحری بیڑوں، جنگی طیاروں، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، کیمیائی ہتھیاروں اور ہلاکت خیز وسائل کی تعداد گنوا کر اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہیں لیکن رہبر معظم انقلاب کے اس بیان میں ایسے پیمانوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہاں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہم پہلی طاقت ہیں، نہ یہ کہ ہم محض ایک بڑی عالمی طاقت شمار ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں ان دونوں تصورات کے فرق پر غور کرنا چاہیے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ طاقتور ہے یا ایک ملک دوسرے ملک سے زیادہ طاقت رکھتا ہے تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ طاقت کا مطلب اثر انداز ہونے اور فریقِ مقابل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ مفہوم کسی ایسی ہستی کے بارے میں درست ہوتا ہے جو واقعی قوت و صلاحیت رکھتی ہو، نہ کہ کسی ذہنی تصور یا خیالی مفروضے کے بارے میں۔

حجت الاسلام والمسلمین برتہ نے قوموں کی طاقت کا جائزہ لینے میں الٰہی نگاہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: یہاں الٰہی حساب و کتاب کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ اگر میں الٰہی نگاہ سے دیکھوں تو ایران کو طاقتور پاؤں گا، لیکن اگر میرے پاس یہ نگاہ نہ ہو تو ممکن ہے مجھے اس کی یہ طاقت دکھائی نہ دے۔ لہٰذا الٰہی حساب و کتاب کے مطابق پہلی طاقت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صلاحیتوں اور قوتوں کو محض مادی پیمانوں کے بجائے ایک مختلف معیار کے مطابق پرکھا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha